تحریر: فروا بتول
حوزہ نیوز ایجنسی|
زندگی میں ہر انسان کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے، لیکن کامیابی کا راستہ ہمیشہ سیدھا اور آسان نہیں ہوتا۔ اس راستے میں اتار چڑھاؤ مشکلات اور ناکامیاں ضرور آتی ہیں۔ عام طور پر لوگ ناکامی کو سفر کا خاتمہ سمجھ کر مایوس ہو جاتے ہیں، جبکہ سچ یہ ہے کہ ناکامی دراصل کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اگلی بار ہمیں مزید بہتر طریقے سے کیسے کوشش کرنی ہے۔
آئمہ علیہم السلام کے اقوال کی روشنی میں:
مکتبِ اہلبیتؑ اور آئمہ اطہار علیہم السلام کی تعلیمات ہمیں مشکلات کا بہادری سے مقابلہ کرنے صبر کرنے اور ہر تجربے سے سیکھنے کا درس دیتی ہیں۔
۱- ناکامی ایک تجربہ ہے اور تجربہ عقل کو بڑھاتا ہے:
جب انسان کسی کام میں ناکام ہوتا ہے تو اسے ایک نیا تجربہ حاصل ہوتا ہے۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے: "العقل حفظ التجارب". عقل تجربات کو یاد رکھنے اور ان سے سیکھنے کا نام ہے. (نہج البلاغہ)
ایک اور جگہ مولا علی علیہ السلام نے فرمایا: جس کے تجربات زیادہ ہوتے ہیں، اس کی غلطیاں اور دھوکے کھانے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
ان فرامین سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم کسی کوشش میں ناکام ہو جائیں تو ہمیں افسردہ ہونے کے بجائے اسے ایک قیمتی تجربہ سمجھنا چاہیے جو مستقبل میں ہماری عقل اور کامیابی کا ضامن بنتا ہے۔
۲۔ صبر اور مستقل مزاجی کامیابی کی چابی ہے:
ناکام ہونے کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے کے لیے صبر اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔
حضرت علی علیہ السلام کا مشہور قول ہے: صبر کرنے والا کامیابی سے محروم نہیں ہوتا چاہے اس میں طویل وقت ہی کیوں نہ لگ جائے۔
یہ قول ہمیں سکھاتا ہے کہ ناکامی عارضی ہوتی ہے اور اگر انسان صبر کا دامن نہ چھوڑے اور مسلسل محنت کرتا رہے تو منزل اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
۳۔ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے:
آئمہ علیہم السلام نے ہمیں ہمیشہ امید کا دامن تھامے رکھنے کی تعلیم دی ہے۔
مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں: جب سختی اور تنگی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو کشادگی اور آسانی کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔
یعنی جب انسان کو لگتا ہے کہ وہ ہر طرف سے ناکام ہو چکا ہے اور اب کوئی راستہ نہیں بچا ٹھیک اسی وقت اللہ کی مدد اور کامیابی کا راستہ کھلتا ہے بشرطیکہ انسان مایوس ہو کر کوشش کرنا نہ چھوڑے۔
جس طرح جنگ احد میں ایک نافرمانی کے نتیجے میں مجاہدین اسلام کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن یہ شکست اتنی سبق آموز تھی کہ آئندہ کی تمام کامیابیاں اسی کی مرہون منت تھیں۔
ناکامی سے کامیابی تک کا سفر:
اگر ہم زندگی میں ناکام ہوں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
آئمہؑ کی زندگی اور تعلیمات ہمیں یہ عملی قدم سکھاتی ہیں:
1.مایوسی سے بچیں:
مایوسی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے مومن کبھی ناامید نہیں ہوتا۔
2.اپنی غلطیوں کا جائزہ لیں:
یہ دیکھیں کہ کہاں کمی رہ گئی تھی اور اسے کیسے دور کیا جا سکتا ہے۔
3.نئی حکمتِ عملی بنائیں:
پچھلی غلطی سے سیکھ کر نئے جذبے اور بہتر منصوبے کے ساتھ دوبارہ میدان میں اتریں۔
حرفِ آخر
خلاصہ یہ ہے کہ ناکامی کوئی عیب یا سفر کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ہمیں مضبوط بنانے کا ایک طریقہ ہے۔ آئمہ علیہم السلام کے ارشادات ہمیں سکھاتے ہیں کہ گر کر دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے والے ہی حقیقی فاتح ہوتے ہیں۔ ناکامیاں دراصل ہمیں تراشتی ہیں تاکہ ہم کامیابی کے بوجھ کو سنبھالنے کے قابل بن سکیں۔









آپ کا تبصرہ